شمعِ غزل کی لَو بن جائے، ایسا مصرعہ ہو تو کہو
اِک اِک حرف میں سوچ کی خوشبو، دل کا اُجالا ہو تو کہو

رازِ محبت کہنے والے لوگ تو لاکھوں ملتے ہیں
رازِ محبت رکھنے والا، ہم سا دیکھا ہو تو کہو!

کون گواہی دے گا اُٹھ کر جھوٹوں کی اس بستی میں
سچ کی قیمت دے سکنے کا تم میں یارا ہو تو کہو!

ویسے تو ہر شخص کے دل میں ایک کہانی ہوتی ہے
ہجر کا لاوا، غم کا سلیقہ، درد کا لہجہ ہو تو کہو

امجد صاحب آپ نے بھی تو دُنیا گھوم کے دیکھی ہے
ایسی آنکھیں ہیں تو بتاؤ! ایسا چہرا ہو تو کہو